اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی بادشاہ نے ایک فرمان کے ذریعے اپنے بھتیجے اور سابق سعودی بادشاہ فہد کے بیٹے محمد بن فہد کو ـ جو کئی عشروں سے الشرقیہ کے گورنر اور عوام کے نزدیک نہایت سفاک اور ظالم اور قابل نقرت سمجھے جاتے تھے ـ کو ہٹا کر سابق ولیعہد نائف بن عبدالعزيز کے بیٹے اور موجودہ وزیر داخلہ محمد بن نائف کے بھائی سعود بن فہد کو اس علاقے کے گورنر کا منصب سونپ دیا ہے۔ سعود بن نائف قبل ازيں ولیعہد کے دفتر کے سربراہ اور ان کے مشیر خاص تھے۔دریں اثناء بلادالحرمین کے کے ایک تجزیہ نگار و مبصر نے کہا ہے کہ الشرقیہ کے گورنر کی تبدیلی عبداللہ بن عبدالعزیز کے سیاسی گیم کا حصہ ہے اور الشرقیہ کے نئے گورنر بھی کوئی قابل تعریف شخصیت نہيں بلکہ ان پر مالی بدعنوانی اور بڑی بڑی چوریوں نیز شدید فرقہ وارانہ رجحانات رکھنے کا رجحان ہے اور یہ وہی بیماری ہے جو ان کے پیشرو محمد بن فہد میں بھی پوری شدت کے ساتھ موجود تھی اور اس علاقے کے عوام نے گذشتہ کئي سالوں سے ان کی برطرفی کو اپنا ہدف تحریک قرار دیا تھا۔ اور سعود بن نائف کے انتخاب کا واحد مقصد یہی ہوسکتا ہے کہ سعودی حکمرانوں اعتدال کے بجائے انتہا پسندی اور تشدد کی جانب بڑھ رہے ہیں۔فؤاد ابراہیم کا کہنا تھا کہ الشرقیہ کے گورنر کے منصب سے محمد بن فہد کی برطرفی اور اسی منصب پر سعود بن نائف کی تعیناتی کا ایک مقصد وزیر داخلہ محمد بن نائف کو تقویت پہنچانا اور عوامی تحریکوں کو کچلنے کے لئے زیادہ ہمآہنگی پیدا کرنا ہے جس سے ایسی مثبت علامت نہيں ملتی کہ عبداللہ بن عبدالعزیز اصلاح کی طرف قدم اٹھانا چاہتے ہیں یا منطقۃالشرقیہ کی ناگفتہ بہ سیاسی، معاشی اور سماجی صورت حال میں کوئی بہتری آسکتی ہے جبکہ اس علاقے کے لوگ عرصہ دراز سے اصلاح احوال کے لئے تحریک چلا رہے ہیں۔ابراہیم نے کہا: الشرقیہ کے عوام کو حالیہ مہینوں کے دوران اپنی اصلاحی انقلاب تحریک کے دوران آل سعود کی طرف سے شدید دشواریوں، جبر و تشدد اور قتل وگرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور دوسری طرف سے سعودی تیل کی پوری دولت سے مالامال الشرقیہ کے علاقے میں غربت و افلاس اور وسیع بےروزگاری، رہائش کے بحران، تعلیم و تربیت اور روزگار میں غیرانسانی امتیازی پالیسیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انھوں نے کہا: محمد بن فہد کی برطرفی کا موضوع ایک مہینے سے آل سعود کے خاندانی حلقوں میں زیر بحث تھا اور تاخیر کا سبب بعض انتظامی مسائل تھے جو حل کئے گئے اور اس کے بعد محمد بن فہد کو برطرف کرکے سعود بن نائف کو ان کی جگہ تعینات کیا گیا۔ فؤادا ابراہیم کا کہنا تھا کہ گوکہ سعود بن نائف کسی طور بھی محمد بن فہد سے بہتر نہیں ہیں لیکن محمد بر فہد کی کارکردگی الشرقیہ کے عوام کی طرف سے مسلسل تنقید و احتجاج کا سامنا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ محمد بن فہد کی نہایت نقصان دہ پالیسیوں اور کارکردگیوں کے باوجود عبداللہ بن عبدالعزيز نے انہیں برطرف نہيں کیا ہے بلکہ انہیں ریاض کا گورنر تعینات کرنے کے منصوبے کے بارے میں بعض اطلاعات گردش کررہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ محمد بن فہد کی برطرفی اور سعود بن نائف کی تعیناتی سے الشرقیہ کے عوام کو خوش نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ خوش کن اطلاع نہيں ہے کیونکہ سعود بن فہد بیرون ملک سفیر کے عنوان سے تعینات رہنے کے بعد کافی عرصے تک محمد بن فہد کے نائب رہے ہیں اور الشرقیہ میں ان کی تعیناتی کا سبب وزیرداخلہ محمد بن نائف کی درخواست ہے جو اپنے آپ کو سعودی حکومت کی کرسی اقتدار سنبھالنے کے لئے تیار کررہے ہیں۔ ابراہیم نے کہا: سعود بن نائف بیت المال میں لوٹ مار، چوری و بدعنوان، جبر و تشدد وغیرہ کے لحاظ سے محمد بن فہد سے کچھ زیادہ مختلف نہيں ہیں اور سعود بن نائف کے الشرقیہ سمیت تمام علاقوں کی تاجر برادری کے ساتھ شدید اختلافات ہیں چنانچہ ان کے آنے سے انتظامی امور میں کوئی تبدیلی آنے کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ واضح رہے کہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے "بظاہر" الشرقیہ کے علاقے میں دو برسوں سے جاری مسلسل احتجاجات کے بعد محمد بن فہد کو برطرف کرکے سعود بن نائف کو اس علاقے کی امارت سونپ دی ہے۔ ادھر سعودی بادشاہ نے تیس خواتین کو بےاختیار اور غیر منتخب مجلس شوری کی رکنیت دی ہے جس کو پھر بھی عوام کو دھوکا دینا اور استبدادی بادشاہی حکومت کو جمہوری رنگ دینے کی ناکام کوشش قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس مجلس شوری کے پاس کسی قسم کی قانون سازی یا ملکی اداروں پر نگرانی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ سعودی بادشاہ یہ اقدام ملکی عوام کے مطالبے کو بائی پاس کرنے کے لئے اٹھایا ہے جو ملک میں جمہوری اصلاحات، آزادانہ انتخابات، آئینی بادشاہت کے قیام اور سماجی و معاشی نیز سیاسی مساوات کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں۔بلادالحرمین کے عوام ملک میں آزاد پارلیمان کے قیام کے لئے عام انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں اور ملکی دولت کو شہزادوں کی جیب میں ڈالنے کی بجائے عوامی فلاح و بہبود اور ملک میں وسیع صنعتیں لگا کر بے روزگاری کا مداوا کرنے پر زور دے رہے ہیں۔فؤاد ابراہیم کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ بادشاہ نے 30 خواتین کو بے اختیار اور غیر منتخب مجلس شوری میں رکنیت دے کر بیرونی دنیا میں سعودی حکومت کی بدنام زمانہ استبدادیت کو جمہوری نقاب پہنانے اور آل سعود کی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور اس کی اس کے سوا کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ جو مرد اور خواتین مجلس شوری میں بھجوائے جاتے ہیں وہ درحقیقت حکومت کے نمائندے ہیں اور انہیں عوامی مقبولیت اور نمائندگی حاصل نہیں ہے حتی کہ ان میں سے بہت سےعوام کے نزدیک جانے پہچانے نہیں ہیں اور ان میں سے متعدد سعودی شہزادے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ملک کے مختلف طبقوں کی طرف سے ملک میں منتخب پارلیمان کی تشکیل اور عام انتخابات کے انعقاد کے لئے سائبر تحریک اور باہمی عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا چکا ہے کیونکہ تمام سیاسی گروہ اور شخصیات موجودہ غیر منتخب پارلیمان کے خلاف ہیں۔انھوں نے کہا: سعودی مجلس شوری نہ صرف پارلیمان نہيں یا پارلیمان کا نعم البدل ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک مشاورتی مرکز سے بھی کمتر ہے۔ اس مجلس کو فہد کے زمانے میں عوامی مطالبات سے چھٹکارا پانے کے لئے تشکیل دیا گیا لیکن اس کے تمام اراکین بادشاہ کی طرف سے مقرر کئے جاتے ہیں اور انہیں قانون سازی یا ملکی و سرکاری معاملات کی نگرانی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مجلس کی تمامتر ذمہ داری، سفارشات مرتب کرکے بادشاہ کے سامنے پیش کرنا، ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔/110
شیعیان الشرقیہ کو ورغلانے کے لئے؛
الشرقیہ کے گورنر تبدیل، نئے گورنر سعود بن نائف؛ تیس خواتین مجلس شوری میں
14 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 381700
بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے کئی عشروں سے الشرقیہ پر مسلط کردہ محمد بن فہد کو ہٹا کر نائف کے بیٹے سعود کو الشرقیہ کا نیا گورنر مقرر کیا۔ سعود بن نائف قبل ازیں ولیعہد کے دفتر کے سربراہ اور ان کے مشیر خاص تھے/ اصل مقصد وزیر داخلہ محمد بن نائف کے ہاتھ مضبوط کرنا بتایا گیا ہے۔ / بادشاہ کا ایک کرتب اور: 30 خواتین غیرمنتخب مجلس شوری میں بھجوائیں۔